Maryam Nawaz کی زیر صدارت منعقدہ اجلاس میں پنجاب کو سیلابی تباہ کاریوں سے محفوظ بنانے کیلئے کئی اہم فیصلے کیے گئے۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ صوبے میں 17 مقامات پر منی ڈیم بنانے کی تجویز پر عملدرآمد کیا جائے گا تاکہ سیلابی پانی کو بہتر طریقے سے کنٹرول کیا جا سکے۔
سیلابی علاقوں سے تجاوزات ختم کرنے کا فیصلہ
اجلاس میں ہدایت دی گئی کہ:
- 3 ماہ کے اندر تمام فلڈ زونز سے تجاوزات ختم کی جائیں
- آبی گزرگاہوں میں قائم غیر قانونی تعمیرات ختم کرائی جائیں
- جو لوگ دریا کے راستوں میں تعمیرات کریں گے انہیں سرکاری امداد نہیں دی جائے گی
وزیراعلیٰ نے کہا:
دریا کے پیٹ میں تعمیرات کا باب ہمیشہ کے لیے بند کیا جا رہا ہے۔
منی ڈیم اور نئی ٹیکنالوجی
اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ:
- پنجاب کے مختلف علاقوں میں 17 منی ڈیم تعمیر کیے جائیں گے
- چنیوٹ میں ایک بند بنانے کی فیزیبلٹی رپورٹ مکمل ہو چکی ہے
- پانی کو کنٹرول کرنے کیلئے Inflatable Dam ٹیکنالوجی متعارف کرائی جائے گی
اس کے علاوہ کالا باغ اور سدھنائی کے مقامات پر آبی ذخائر کی گنجائش بڑھانے پر بھی غور کیا گیا۔
ڈیزاسٹر مینجمنٹ کو مضبوط بنانے کے اقدامات
اجلاس میں مزید فیصلے بھی کیے گئے:
- Provincial Disaster Management Authority (PDMA) کی ری اسٹرکچرنگ
- پی ڈی ایم اے میں 8 نئے ونگز قائم کیے جائیں گے
- ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آپریشن سینٹرز اور ریجنل ڈیزاسٹر ویئرہاؤسز قائم کیے جائیں گے
- Rescue 1122 کو فلڈ آپریشن کیلئے جدید آلات فراہم کیے جائیں گے
سیلاب کے بعد بحالی کا کام
اجلاس میں بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ حالیہ سیلاب کے بعد پنجاب میں:
- 563 کلومیٹر طویل 186 سڑکیں
- 446 پلیاں
- ایک پل
بحال کر دیے گئے ہیں۔
ماہرین کے مطابق رواں سال صوبے میں 28 فیصد زیادہ بارشوں کی پیش گوئی کی جا رہی ہے، جس کے پیش نظر یہ اقدامات کیے جا رہے ہیں




