ایران کی جانب سے اسرائیل پر بیلسٹک میزائلوں سے حملوں کا سلسلہ جاری ہے جس کے نتیجے میں لاکھوں اسرائیلی شہری رات بھر حفاظتی پناہ گاہوں (شیلٹرز) میں رہنے پر مجبور ہوگئے۔ غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق جمعہ اور ہفتہ کی درمیانی شب ایران نے اسرائیل کی جانب متعدد بیلسٹک میزائل داغے جن کے باعث مختلف علاقوں میں خطرے کے سائرن بج اٹھے۔
رپورٹس کے مطابق ایران کی طرف سے اب تک میزائلوں کی کم از کم پانچ لہریں داغی جا چکی ہیں۔ ان حملوں کا بنیادی ہدف وسطی اسرائیل کے مختلف علاقے بتائے جا رہے ہیں جن میں تل ابیب اور اس کے گرد و نواح بھی شامل ہیں۔ میزائل حملوں کے فوراً بعد اسرائیلی دفاعی نظام متحرک ہوگیا اور شہریوں کو فوری طور پر شیلٹرز میں منتقل ہونے کی ہدایات جاری کی گئیں۔
اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ ایران کے داغے گئے بیشتر میزائل فضائی دفاعی نظام نے فضا میں ہی تباہ کر دیے جس کے باعث کسی بڑے جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق ان حملوں میں کسی شخص کے زخمی ہونے کی بھی تصدیق نہیں ہوئی جبکہ کسی میزائل کے براہ راست زمین پر گرنے کی رپورٹ بھی سامنے نہیں آئی۔
حکام کے مطابق میزائل حملوں کے دوران اسرائیل کے کئی شہروں میں ہنگامی سائرن بجائے گئے جس کے بعد شہری بڑی تعداد میں زیر زمین پناہ گاہوں میں چلے گئے۔ حکام نے شہریوں کو محتاط رہنے اور حفاظتی ہدایات پر عمل کرنے کی تاکید کی ہے۔
دوسری جانب خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی برادری میں تشویش پائی جا رہی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران اور اسرائیل کے درمیان براہ راست حملوں کا یہ سلسلہ مشرق وسطیٰ میں صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا سکتا ہے۔
بین الاقوامی مبصرین کے مطابق اگر کشیدگی میں کمی نہ آئی تو خطے میں ایک وسیع تر تصادم کا خطرہ بھی پیدا ہو سکتا ہے۔ عالمی طاقتیں دونوں ممالک سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور کشیدگی کم کرنے کی اپیل کر رہی ہیں۔
مزید اطلاعات اور سرکاری ردعمل سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہونے کا امکان ہے




