امریکا کا ایران میں خفیہ آپریشن؟ جوہری مواد پر قبضے کیلئے اسپیشل فورسز بھیجنے کا دعویٰ

امریکی نیوز ویب سائٹ Axios نے دعویٰ کیا ہے کہ United States ایران کے جوہری مواد پر قبضہ کرنے کے لیے اسپیشل فورسز بھیجنے کے امکان پر غور کر رہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق امریکا اور Israel کے درمیان ایران میں موجود انتہائی افزودہ یورینیئم کے ذخیرے کو محفوظ بنانے کے لیے ممکنہ فوجی کارروائی پر بات چیت ہوئی ہے۔

اس سے قبل امریکی میڈیا میں یہ اطلاعات بھی سامنے آ چکی ہیں کہ امریکی صدر Donald Trump مخصوص اہداف کے لیے ایران میں فوجی دستے بھیجنے کے آپشن پر غور کر رہے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ کے اہم جنگی مقاصد میں سے ایک یہ ہے کہ Iran کو کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل نہ کرنے دیا جائے۔ اسی تناظر میں ایران کے پاس موجود تقریباً 450 کلوگرام 60 فیصد افزودہ یورینیئم کو انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ اسے چند ہفتوں میں ہتھیاروں کے درجے تک افزودہ کیا جا سکتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق اگر ایسا آپریشن کیا گیا تو امریکی یا اسرائیلی فوجیوں کو ایرانی سرزمین پر جا کر زیر زمین جوہری تنصیبات تک رسائی حاصل کرنا پڑ سکتی ہے۔ تاہم ابھی یہ واضح نہیں کہ ممکنہ کارروائی امریکا اکیلے کرے گا یا اسرائیل کے ساتھ مشترکہ فوجی مہم ہوگی۔

امریکی وزیر خارجہ Marco Rubio سے کانگریس میں جب ایران کے افزودہ یورینیئم کو محفوظ بنانے کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ اس کے لیے موقع پر جا کر اسے حاصل کرنا پڑے گا، تاہم انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ یہ کارروائی کون انجام دے گا۔

ایک امریکی عہدیدار کے مطابق انتظامیہ دو ممکنہ آپشنز پر غور کر رہی ہے:

  • یورینیئم کو ایران سے باہر منتقل کر دیا جائے۔
  • یا جوہری ماہرین کو وہاں بھیج کر اسی مقام پر اس کی افزودگی کم کر دی جائے۔

ذرائع کے مطابق اس ممکنہ مشن میں اسپیشل فورسز کے ساتھ سائنس دان بھی شامل ہو سکتے ہیں، جن میں ممکنہ طور پر International Atomic Energy Agency کے ماہرین بھی شریک ہو سکتے ہیں۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ امریکی حکام نے ایران کے اہم تیل برآمدی مرکز Kharg Island پر قبضہ کرنے کے امکان پر بھی بات چیت کی ہے، جہاں سے ایران کی تقریباً 90 فیصد خام تیل کی برآمدات ہوتی ہیں۔