ملک میں فائیو جی اسپیکٹرم کی نیلامی کا باقاعدہ آغاز

اسلام آباد:
پاکستان میں جدید ٹیلی کمیونی کیشن ٹیکنالوجی کے فروغ کے لیے فائیو جی اسپیکٹرم کی نیلامی کا باقاعدہ آغاز کر دیا گیا ہے۔

حکام کے مطابق ابتدائی طور پر ملک کے پانچ بڑے شہروں میں فائیو جی سروس کی فراہمی کے لیے اسپیکٹرم کی نیلامی کی جا رہی ہے جبکہ نیلامی کا عمل آن لائن اور ورچوئلی جاری ہے۔

نیلامی کے پہلے مرحلے میں 2600 میگاہرٹز بینڈ میں 190 میگاہرٹز اسپیکٹرم دستیاب تھا جس کے مقابلے میں 110 میگاہرٹز اضافی طلب سامنے آئی۔ زیادہ طلب کے باعث دوسرے مرحلے میں اسپیکٹرم کی قیمت میں 5 فیصد اضافہ کر دیا گیا۔

اسی طرح پہلے مرحلے میں 3500 میگاہرٹز بینڈ میں 280 میگاہرٹز اسپیکٹرم رکھا گیا تھا جس کے لیے 200 میگاہرٹز کی طلب موصول ہوئی۔ بعد ازاں نیلامی کا دوسرا راؤنڈ بھی مکمل کر لیا گیا۔

ڈی جی لائسنسنگ Aamir Shehzad نے نتائج کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ کچھ بولی دہندگان نے 2600 بینڈ سے 700 میگاہرٹز بینڈ کی طرف منتقل ہونے کا فیصلہ کیا جبکہ 2600 بینڈ میں اب بھی طلب زیادہ ہونے کی وجہ سے قیمت میں مزید اضافہ متوقع ہے۔

افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے Hafeez ur Rehman نے کہا کہ فائیو جی پاکستان کی ڈیجیٹل ہائی وے کا انجن ثابت ہوگی۔

وفاقی وزیر آئی ٹی Shaza Fatima Khawaja نے کہا کہ پاکستان ٹیکنالوجی کے ایک نئے دور میں داخل ہو رہا ہے اور ملک ان ممالک میں شامل ہو رہا ہے جہاں فائیو جی ٹیکنالوجی استعمال کی جا رہی ہے۔

اس موقع پر وفاقی وزیر خزانہ Muhammad Aurangzeb نے کہا کہ فائیو جی اسپیکٹرم آکشن پاکستان کی ڈیجیٹل معیشت کے لیے اہم پیش رفت ہے اور اس ٹیکنالوجی سے عوام کو تیز، سستی اور بہتر ڈیجیٹل سروسز میسر آئیں گی۔

حکام کے مطابق نیلامی میں ملک کی تین بڑی موبائل کمپنیوں نے حصہ لیا ہے جبکہ اس عمل کے بعد پاکستان میں فائیو جی سروس کے آغاز کی راہ مزید ہموار ہو جائے گی۔