اسلام آباد:
چیف الیکشن کمشنر Sikandar Sultan Raja نے بلدیاتی انتخابات میں تاخیر پر سماعت کے دوران ریمارکس دیتے ہوئے کہا ہے کہ بدقسمتی سے موجودہ حکومت کے دور میں بلدیاتی حکومتوں کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔
بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کے معاملے پر Election Commission of Pakistan میں سماعت ہوئی جس کی سربراہی چیف الیکشن کمشنر نے کی۔ پانچ رکنی کمیشن کے سامنے ہونے والی سماعت میں وفاقی وزیر داخلہ Mohsin Naqvi طبیعت ناساز ہونے کے باعث پیش نہ ہو سکے جبکہ سیکریٹری داخلہ نے کمیشن کے سامنے پیش ہو کر موقف دیا۔
سماعت کے دوران الیکشن کمیشن حکام نے کہا کہ یونین کونسل کے نام ڈرافٹ میں شامل کرنا سیکریٹری داخلہ کا اختیار نہیں بلکہ یہ الیکشن کمیشن کا مینڈیٹ ہے۔ حکام کے مطابق یونین کونسل کے حوالے سے جاری کیا گیا نوٹیفکیشن درست نہیں کیونکہ مطلوبہ معلومات میں صرف ٹاؤن اور یونین کونسل کی تعداد درکار تھی۔
اس موقع پر سیکریٹری داخلہ نے توہین کے نوٹس پر معذرت کرتے ہوئے بتایا کہ اسلام آباد بلدیاتی انتخابات سے متعلق ڈرافٹ نوٹیفکیشن منظوری کے لیے کابینہ کو بھجوا دیا گیا ہے جبکہ وزارت قانون کی جانب سے جواب بھی موصول ہو چکا ہے۔
چیف الیکشن کمشنر نے ریمارکس دیے کہ فروری 2021 سے اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات نہیں ہوئے اور اس دوران مختلف حکومتوں نے مثبت ردعمل دیا، تاہم موجودہ حکومت کے دور میں بلدیاتی نظام کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔
بعد ازاں چیف الیکشن کمشنر نے سیکریٹری داخلہ کی موجودگی پر توہین کا نوٹس واپس لیتے ہوئے اعلان کیا کہ اسلام آباد میں الیکشن کمیشن اور آئی سی ٹی حکام پر مشتمل ایک کمیٹی قائم کی جائے گی جس کی سربراہی چیف کمشنر یا ڈپٹی کمشنر کریں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اسلام آباد اور پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے سنجیدہ اقدامات کیے جائیں گے اور اب مزید تاخیر نہیں ہوگی۔ سماعت کے بعد کیس کی مزید کارروائی کے لیے سماعت ملتوی کر دی گئی۔




