اسلام آباد:
وفاقی آئینی عدالت نے متوفی کوٹہ سسٹم سے متعلق ایک اہم فیصلہ جاری کرتے ہوئے 10 درخواست گزاروں کی سرکاری تعیناتیوں کو برقرار رکھنے کا حکم دے دیا ہے۔
عدالت نے Sindh High Court کے لاڑکانہ سرکٹ بینچ کے فیصلے کو درست قرار دیتے ہوئے سندھ حکومت کی اپیلیں مسترد کر دیں۔
یہ فیصلہ Justice Aamir Farooq نے سندھ حکومت کے خلاف متوفی کوٹہ کیس میں سنایا۔ سندھ حکومت کا مؤقف تھا کہ Supreme Court of Pakistan نے محمد جلال کیس میں متوفی کوٹہ سسٹم کو ختم کر دیا تھا، اس لیے ان تقرریوں کو بھی کالعدم قرار دیا جائے۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے سے پہلے ہی متعلقہ افراد کا قانونی حق پیدا ہو چکا تھا۔ فیصلے کے مطابق جب کسی سرکاری ملازم کا انتقال ہوتا ہے تو اسی وقت اس کے اہل خانہ کے لیے متوفی کوٹہ کے تحت حق پیدا ہو جاتا ہے، جبکہ درخواست دینا یا تقرری نامہ جاری ہونا صرف انتظامی عمل ہوتا ہے۔
عدالت نے واضح کیا کہ عدالتی فیصلے ماضی سے لاگو نہیں ہوتے، اس لیے ایسے پرانے کیسز کو ماضی کے بند معاملات تصور کیا جائے گا۔
فیصلے میں مزید کہا گیا کہ لاڑکانہ سرکٹ بینچ کی جانب سے متوفی کوٹہ کے تحت دی گئی تقرریاں قانونی ہیں، اس لیے انہیں برقرار رکھا جاتا ہے۔





