لندن:
برطانیہ کے درجنوں ارکان پارلیمنٹ نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اسرائیل کے قیام کی راہ ہموار کرنے میں اپنے تاریخی کردار پر باضابطہ معافی مانگے۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق 45 سے زائد ارکان پارلیمنٹ اور House of Lords کے اراکین نے برطانوی وزیر اعظم Keir Starmer کو ایک خط لکھا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ برطانیہ کو اپنے ماضی کے اقدامات کی ذمہ داری قبول کرنی چاہیے۔
خط میں کہا گیا ہے کہ Balfour Declaration کے نتائج آج بھی مشرق وسطیٰ میں دیکھے جا سکتے ہیں۔ ارکان پارلیمنٹ کے مطابق اسی اعلان نے بعد میں ایسے حالات پیدا کیے جن کے نتیجے میں Israel کا 1948 میں قیام عمل میں آیا جبکہ فلسطینی عوام کو بڑے پیمانے پر مشکلات اور تشدد کا سامنا کرنا پڑا۔
ارکان پارلیمنٹ نے اپنے خط میں مطالبہ کیا کہ برطانوی حکومت کو اس تاریخی اعلان کے اثرات کو تسلیم کرتے ہوئے فلسطینی عوام سے باضابطہ معافی مانگنی چاہیے۔
یاد رہے کہ British Empire نے سلطنت عثمانیہ کی شکست کے بعد تقریباً تین دہائیوں تک فلسطین پر 1948 تک حکمرانی کی تھی، تاہم مختلف برطانوی حکومتیں اب تک اس دور کے حوالے سے رسمی معافی مانگنے یا مکمل ذمہ داری قبول کرنے سے گریز کرتی رہی ہیں۔





