اہم عالمی آبی گزرگاہ Strait of Hormuz کے گرد بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران Donald Trump نے دنیا کے مختلف ممالک سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنی بحریہ کے جنگی جہاز امریکا کے ساتھ تعینات کریں تاکہ اس گزرگاہ کو محفوظ اور کھلا رکھا جا سکے۔
امریکی صدر نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر کہا کہ South Korea، Japan، France، China اور United Kingdom جیسے ممالک کو اس اقدام میں شامل ہونا چاہیے کیونکہ ان کی معیشتیں بھی خلیج فارس سے آنے والی تیل کی سپلائی پر انحصار کرتی ہیں۔
یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب Iran اور United States کے درمیان جاری جنگ کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ امریکا اور Israel کے حملوں کے بعد تہران نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کی نقل و حرکت محدود کر دی ہے جس سے عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل متاثر ہو رہی ہے۔
رپورٹس کے مطابق United Kingdom نے اس منصوبے کے تحت جنگی جہاز بھیجنے سے انکار کر دیا ہے جبکہ برطانوی وزیر اعظم Keir Starmer نے بھی اس حوالے سے امریکی تجویز کو مسترد کر دیا ہے۔ اسی طرح Japan، Australia اور France نے بھی جنگی جہاز بھیجنے سے انکار کر دیا ہے۔
دوسری جانب ایران کے وزیر خارجہ Abbas Araghchi نے کہا ہے کہ کئی ممالک نے اپنے تجارتی جہازوں کی محفوظ گزرگاہ کے لیے ایران سے رابطہ کیا ہے، تاہم اس حوالے سے حتمی فیصلہ ایرانی فوج کرے گی۔
ادھر India کے وزیر خارجہ Subrahmanyam Jaishankar نے بتایا کہ نئی دہلی اور تہران کے درمیان مذاکرات کے بعد بھارتی پرچم بردار دو گیس ٹینکرز کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دے دی گئی ہے۔
عالمی سطح پر اس منصوبے پر ردعمل محتاط رہا ہے۔ Germany کے وزیر خارجہ Johann Wadephul نے بھی اس تجویز پر شکوک کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جرمنی کسی نئی جنگی کارروائی کا حصہ نہیں بننا چاہتا۔
ادھر ایران کی فوجی تنظیم Islamic Revolutionary Guard Corps کے ترجمان Ali Mohammad نے امریکی صدر کو چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ اگر امریکا کو لگتا ہے کہ ایران کی بحریہ کمزور ہو چکی ہے تو وہ اپنے جہاز خلیج فارس میں بھیج کر دیکھ لے۔
رپورٹس کے مطابق جنگ شروع ہونے کے بعد کم از کم 10 آئل ٹینکرز پر حملے یا حملوں کی کوششیں ہو چکی ہیں جبکہ تقریباً 1000 جہاز آبنائے ہرمز کے راستے میں پھنسے ہوئے ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ صورتحال عالمی توانائی کی منڈی اور سمندری تجارت کے لیے ایک بڑا خطرہ بن سکتی ہے




