ٹرمپ کو بڑا جھٹکا، یورپی ممالک کا آبنائے ہرمز میں فوجی کارروائی میں شرکت سے انکار

یورپی ممالک نے اہم عالمی گزرگاہ Strait of Hormuz میں ممکنہ فوجی کارروائی کا حصہ بننے سے صاف انکار کر دیا ہے، جسے امریکی صدر Donald Trump کے لیے ایک بڑا سفارتی دھچکا قرار دیا جا رہا ہے۔

برسلز میں European Union کے اجلاس کے موقع پر جرمنی کے وزیر خارجہ Johann Wadephul نے کہا کہ ان کا ملک موجودہ تنازع میں کسی فوجی مشن میں شامل ہونے کا ارادہ نہیں رکھتا۔ انہوں نے زور دیا کہ امریکا اور اسرائیل کو اپنی حکمت عملی کے بارے میں اتحادیوں کو واضح معلومات فراہم کرنی چاہئیں۔

جرمن وزیر دفاع Boris Pistorius نے بھی تصدیق کی کہ جرمنی فوجی کارروائی میں حصہ نہیں لے گا، تاہم وہ بحری گزرگاہ کو محفوظ بنانے کے لیے سفارتی کوششوں کی حمایت کرے گا۔

اسی طرح برطانوی وزیراعظم Keir Starmer نے بھی واضح کیا کہ United Kingdom اس تنازع کو NATO کا مشن نہیں سمجھتا اور وسیع جنگ میں شامل ہونے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا، البتہ اتحادیوں کے ساتھ مختلف آپشنز پر بات چیت جاری ہے۔

دیگر یورپی ممالک جیسے Netherlands، Greece اور Italy نے بھی امریکی تجویز پر محتاط ردعمل دیا ہے، جبکہ Poland نے کہا ہے کہ اگر نیٹو کے ذریعے باضابطہ درخواست آئی تو اس پر غور کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ Strait of Hormuz عالمی تیل کی سپلائی کے لیے انتہائی اہم ہے، جہاں سے دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل کی ترسیل ہوتی ہے۔ ماہرین کے مطابق Iran، United States اور Israel کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے باعث اس گزرگاہ کی صورتحال مزید حساس ہو گئی ہے، جس کے اثرات عالمی توانائی مارکیٹ اور تیل کی قیمتوں پر واضح طور پر پڑ رہے ہیں۔