سندھ میں 12 سال بعد بھی تھیلیسیمیا ایکٹ نافذ نہ ہوسکا، ہزاروں بچے متاثر

Sindh میں خون کے موروثی مرض Thalassemia کے خاتمے کے لیے 2013 میں منظور کیا گیا قانون تاحال نافذ نہ ہوسکا، جس کے باعث ہر سال ہزاروں بچے اس بیماری کے ساتھ پیدا ہو رہے ہیں۔

Sindh Assembly نے ’’سندھ پریوینشن اینڈ کنٹرول آف تھیلیسیمیا ایکٹ 2013‘‘ منظور کیا تھا، جس کے تحت نکاح سے قبل لڑکا اور لڑکی کا تھیلیسیمیا ٹیسٹ لازمی قرار دیا گیا تھا، مگر 12 سال گزرنے کے باوجود اس پر عملدرآمد نہیں ہو سکا۔

ماہرین کے مطابق تھیلیسیمیا ایک موروثی بیماری ہے، اور اگر والدین تھیلیسیمیا مائنر ہوں تو بچوں میں تھیلیسیمیا میجر ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ اس مرض میں مبتلا بچوں کو ہر ماہ خون کی منتقلی کی ضرورت ہوتی ہے، جو نہ صرف مشکل بلکہ مہنگا عمل ہے۔

ماہر امراض خون Dr Saqib Ansari کے مطابق پاکستان میں ایک لاکھ سے زائد بچے تھیلیسیمیا میجر کا شکار ہیں، جبکہ صرف سندھ میں 25 ہزار سے زائد متاثرہ بچے موجود ہیں اور ہر سال تقریباً 5 ہزار نئے کیسز سامنے آتے ہیں۔ ان بچوں کے علاج کے لیے سالانہ لاکھوں خون کی بوتلوں کی ضرورت ہوتی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ صوبے میں ہر ماہ 12 سے 15 ہزار بچوں کو خون درکار ہوتا ہے، جبکہ سالانہ تقریباً 2 لاکھ 40 ہزار خون کی بوتلوں کی ضرورت پڑتی ہے۔ سندھ کے بیشتر تھیلیسیمیا سینٹرز اپنی مدد آپ کے تحت چل رہے ہیں اور خون کے عطیات کے لیے کیمپس لگاتے ہیں۔

مزید برآں، ایک متاثرہ بچے کے علاج پر سالانہ لاکھوں روپے خرچ ہوتے ہیں، جن میں ادویات اور لیبارٹری ٹیسٹ شامل ہیں، جس سے متاثرہ خاندانوں پر شدید مالی دباؤ پڑتا ہے۔

دوسری جانب 2023 میں منظور ہونے والا Sindh Protection and Promotion of Breastfeeding and Child Nutrition Act 2023 بھی تاحال نافذ نہیں ہو سکا، جس کے تحت بچوں کے لیے مصنوعی دودھ کی بغیر نسخہ فروخت پر پابندی عائد کی گئی تھی۔

ماہرین اطفال کے مطابق پاکستان میں صرف 48 فیصد مائیں اپنے بچوں کو بریسٹ فیڈنگ کراتی ہیں، جبکہ باقی بچے ضروری غذائیت اور قوتِ مدافعت سے محروم رہ جاتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ تھیلیسیمیا کے پھیلاؤ کی بڑی وجہ قریبی رشتہ داروں میں شادی (کزن میرج) ہے، اور اگر قانون پر عملدرآمد کیا جائے تو اس مرض کو بڑی حد تک روکا جا سکتا ہے۔

انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر ان قوانین پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے تاکہ تھیلیسیمیا جیسے مہلک مرض پر قابو پایا جا سکے اور بچوں کی صحت کو بہتر بنایا جا سکے