خلیجی خطے میں اس وقت شدید کشیدگی دیکھنے میں آ رہی ہے جہاں Iran کی جانب سے میزائل اور ڈرون حملوں کے بعد Doha، Dubai اور Kuwait سمیت مختلف علاقوں میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔
رپورٹس کے مطابق Qatar، United Arab Emirates، Saudi Arabia اور Bahrain نے متعدد میزائل اور ڈرون حملوں کو فضا میں ہی تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
قطر کی وزارت دفاع کے مطابق ایک میزائل کو بروقت نشانہ بنا کر تباہ کیا گیا، جبکہ کویت کی نیشنل گارڈ نے بھی ایک ڈرون مار گرانے کی تصدیق کی۔ متحدہ عرب امارات میں فضائی دفاعی نظام کو فعال کیا گیا، جس کے نتیجے میں دبئی سمیت مختلف علاقوں میں زور دار دھماکوں کی آوازیں سنائی دیں۔
اسی طرح سعودی عرب نے اپنے مشرقی علاقے میں ایک ڈرون تباہ کرنے کا اعلان کیا، جبکہ بحرین نے دعویٰ کیا ہے کہ جنگ کے آغاز سے اب تک سینکڑوں میزائل اور ڈرون حملوں کو ناکام بنایا جا چکا ہے۔
یہ صورتحال ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران، United States اور Israel کے درمیان جاری کشیدگی شدت اختیار کر چکی ہے، اور خلیجی ممالک بھی اس کے اثرات سے محفوظ نہیں رہے۔
ماہرین کے مطابق Strait of Hormuz میں رکاوٹوں کے باعث تیل کی ترسیل متاثر ہوئی ہے، جس کے نتیجے میں مشرقِ وسطیٰ کی یومیہ تیل پیداوار 21 ملین بیرل سے کم ہو کر تقریباً 14 ملین بیرل تک آ گئی ہے۔
ان حملوں کے باعث نہ صرف جانی نقصان کی اطلاعات سامنے آئی ہیں بلکہ خطے کی معیشت، توانائی کی پیداوار، سیاحت اور فضائی سفر بھی شدید متاثر ہو رہے ہیں، جس سے عالمی سطح پر بھی معاشی دباؤ بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔




