Islamabad میں پاکستان اور China نے صحت، زراعت اور معدنیات کے شعبوں میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) پر مبنی تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا ہے۔
حکام کے مطابق Special Investment Facilitation Council کی مؤثر حکمت عملی کے تحت پاکستان جدید ٹیکنالوجیز خصوصاً اے آئی کے استعمال سے تحقیق، جدت اور اقتصادی تعاون کو فروغ دے رہا ہے۔
دونوں ممالک نے زراعت، میڈیکل اے آئی، معدنیات اور بایوٹیکنالوجی کے شعبوں میں تعاون کو وسعت دینے پر زور دیا، جبکہ اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ تکنیکی جدت اور طبی تحقیق کے ذریعے صحت کے مسائل کے حل میں مدد ملے گی۔
اس کے علاوہ اسمارٹ اور ڈیجیٹل زراعت کے فروغ کے لیے مشترکہ اے آئی لیبارٹری کے قیام پر بھی کام جاری ہے، جس کا مقصد زرعی پیداوار، سپلائی چین اور فوڈ سیکیورٹی کو بہتر بنانا ہے۔
حال ہی میں منعقدہ Pak-China B2B Agriculture Investment Conference کے دوران تقریباً 80 مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے، جبکہ 4.5 ارب ڈالر کے معاہدے بھی طے پائے۔
چینی صنعتکاروں کے مطابق پاکستان معدنی وسائل سے مالا مال ہے جبکہ چین کے پاس جدید کان کنی کی ٹیکنالوجی موجود ہے، اور دونوں کا اشتراک اقتصادی ترقی کے لیے ایک اہم موقع ثابت ہو سکتا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ ایس آئی ایف سی پاکستان میں زراعت، صحت اور معدنیات کے شعبوں میں بین الاقوامی شراکت داری کے فروغ میں کلیدی کردار ادا کر رہی ہے۔





