امریکا ایران مذاکرات؛ ٹرمپ نے پاور پلانٹس پر حملے 5 دن کیلئے مؤخر کر دیے

Donald Trump نے ایران کے توانائی مراکز پر ممکنہ حملے 5 روز کے لیے مؤخر کرتے ہوئے کہا ہے کہ United States اور Iran کے درمیان حالیہ دنوں میں مثبت اور نتیجہ خیز بات چیت ہوئی ہے۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کے درمیان متعدد اہم نکات پر پیش رفت ہوئی ہے اور سفارتی حل تلاش کرنے کی کوشش جاری ہے۔ ان کے بقول تقریباً 15 نکات پر اتفاق رائے سامنے آیا ہے جبکہ مزید بات چیت کا سلسلہ بھی جاری رہنے کا امکان ہے۔

انہوں نے بتایا کہ امریکی نمائندوں نے ایرانی حکام سے رابطے کیے اور یہ مذاکرات مثبت رہے، تاہم کسی حتمی معاہدے کی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ صدر ٹرمپ نے واضح کیا کہ امریکا ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے کے لیے پرعزم ہے۔

دوسری جانب ایرانی وزارت خارجہ نے امریکی صدر کے مذاکرات سے متعلق دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان کوئی براہ راست بات چیت نہیں ہو رہی، البتہ مختلف ممالک کے ذریعے پسِ پردہ پیغامات کا تبادلہ جاری ہے۔

یاد رہے کہ اس پیش رفت کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جسے ممکنہ سفارتی پیش رفت کا نتیجہ قرار دیا جا رہا ہے۔

مزید تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور اہم اپڈیٹس کے لیے ڈیلی فیض اعوام ڈاٹ کام کے ساتھ جڑے رہیں۔ باخبر رہیں، آگے رہیں