ایران ڈیل چاہتا ہے، دونوں ممالک کے درمیان بات چیت جاری ہے: ٹرمپ

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران معاہدہ کرنا چاہتا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان بات چیت جاری ہے۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ امریکی فوج نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور ایران کی جانب سے “نیوکلیئر بلیک میلنگ” کو ختم کر دیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ایران کے پاس ایٹم بم ہوتا تو وہ اسے مشرق وسطیٰ میں استعمال کر چکا ہوتا۔

صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ امریکا ایرانی نظام کے خطرے کو ختم کر رہا ہے اور اگر وہ صدر نہ ہوتے تو امریکا کو شدید خطرات لاحق ہو سکتے تھے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایران کو آبنائے ہرمز کھولنا پڑے گی اور امریکا نے اپنے اتحادیوں کے تحفظ کے لیے اہم اقدامات کیے ہیں۔ ان کے مطابق اگر ایران سابقہ معاہدہ ختم نہ کرتا تو آج اس کے پاس ایٹم بم موجود ہوتا۔

دوسری جانب امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ ایران میں امریکی زمینی فوج بھیجنے کی ضرورت نہیں اور جنگ چند ہفتوں میں مکمل ہو سکتی ہے۔

فرانس میں جی سیون اجلاس کے بعد گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ فوجی اہداف کے حصول کے باوجود آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنا ایک بڑا چیلنج بن سکتا ہے۔