مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی میں مزید اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جہاں ایران نے اسرائیلی شہروں اور خطے میں مختلف اہداف پر میزائل اور ڈرون حملے کیے ہیں۔
ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ "آپریشن وعدہ صادق 4” کی 86ویں لہر کے دوران امریکی اور اسرائیلی فوجی و فضائی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔ بیان کے مطابق حملوں میں میزائل اور ڈرونز کا مربوط استعمال کیا گیا اور مختلف مقامات پر فوجی انفرااسٹرکچر اور اسلحہ ذخائر کو ہدف بنایا گیا۔
غیرملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق جنوبی اسرائیل میں واقع کیمیکل پلانٹس بھی ان حملوں سے متاثر ہوئے، جن میں ایڈاما اور ماختشیم صنعتی تنصیبات شامل ہیں۔ اسرائیلی فائر بریگیڈ کے مطابق صنعتی علاقے میں آگ بھڑک اٹھی، جس پر قابو پانے کے لیے درجنوں فائر فائٹنگ ٹیمیں سرگرم ہیں۔
اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کی ممکنہ وجہ میزائل کے ملبے کا گرنا بھی ہو سکتی ہے، جبکہ شہریوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت جاری کی گئی ہے، جن میں گھروں کے اندر رہنا اور وینٹیلیشن بند رکھنا شامل ہے۔
اسرائیلی فوج کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک بھر میں درجنوں مرتبہ سائرن بجائے گئے اور متعدد میزائلوں کو دفاعی نظام کے ذریعے ناکارہ بنایا گیا۔
تاحال کسی جانی نقصان کی تصدیق نہیں ہوئی، تاہم صورتحال بدستور کشیدہ ہے اور مزید حملوں کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔




