عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں خطرناک اضافہ، توانائی بحران کا خدشہ بڑھ گیا

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف سخت اور جارحانہ مؤقف اختیار کرتے ہوئے ایرانی تیل کے ذخائر پر قبضہ کرنے کا عندیہ دے دیا ہے، جس کے بعد مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال مزید کشیدہ ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ ایرانی تیل پر کنٹرول حاصل کرنا ان کا “پسندیدہ آپشن” ہے اور امریکا بآسانی ایران کے اہم آئل ایکسپورٹ حب خارگ جزیرہ سمیت دیگر تنصیبات پر قبضہ کر سکتا ہے۔ ان کا دعویٰ تھا کہ ایران ان اہم مقامات کا مؤثر دفاع کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔

امریکی صدر نے مزید انکشاف کیا کہ ایران کے افزودہ یورینیم ذخائر، جو اصفہان اور نطنز جیسے اہم مقامات پر موجود ہیں، پر قبضے کے لیے ایک براہ راست فوجی آپریشن بھی زیر غور ہے۔ ان کے مطابق ایسے کسی بھی آپریشن کے لیے امریکی افواج کو کئی دنوں تک ایرانی سرزمین پر موجود رہنا پڑ سکتا ہے۔

ٹرمپ کا کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے پاکستانی پرچم بردار آئل ٹینکرز کی تعداد میں بھی اضافہ ہوا ہے، جو خطے میں جاری بدلتی صورتحال کی عکاسی کرتا ہے۔

دوسری جانب انہوں نے واضح کیا کہ جہاں ایک طرف فوجی آپشن زیر غور ہے، وہیں پس پردہ سفارتی کوششیں بھی جاری ہیں اور ثالثی کے ذریعے ایران کے ساتھ مذاکرات میں پیش رفت ہو رہی ہے۔ ٹرمپ کے مطابق ایک ممکنہ معاہدہ جلد سامنے آ سکتا ہے، تاہم صورتحال اب بھی غیر یقینی کا شکار ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر امریکا ایران کے تیل کے ذخائر پر قبضے کی جانب بڑھتا ہے تو نہ صرف خطے میں کشیدگی مزید بڑھے گی بلکہ عالمی توانائی منڈی بھی شدید متاثر ہو سکتی ہے، جس کے اثرات دنیا بھر کی معیشت پر مرتب ہوں گے۔