مشرقِ وسطیٰ میں امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی ایک نئے اور خطرناک مرحلے میں داخل ہو گئی ہے، جہاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ متضاد بیانات نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔
ایک حالیہ انٹرویو میں ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے تیل کے ذخائر پر کنٹرول حاصل کرنے کی خواہش کا اظہار کیا، جس پر عالمی سطح پر شدید ردعمل سامنے آ رہا ہے۔ دوسری جانب امریکا کی جانب سے سفارتی مذاکرات کی باتیں بھی کی جا رہی ہیں، جس سے پالیسی میں تضاد واضح ہو رہا ہے۔
ادھر ایران نے امریکا پر ممکنہ زمینی حملے کی منصوبہ بندی کا الزام عائد کیا ہے، جس کے باعث خطے میں بے یقینی اور کشیدگی میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔
خلیجی ریاست کویت نے تصدیق کی ہے کہ ایرانی حملے میں ایک پاور اور ڈی سیلینیشن پلانٹ کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں ایک بھارتی شہری ہلاک ہو گیا، جبکہ مختلف خلیجی ممالک نے ایرانی میزائلوں اور ڈرونز کو فضا میں تباہ کرنے کے دعوے بھی کیے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق امریکا اور اسرائیل نے ایران کے شہر تبریز میں ایک پیٹروکیمیکل پلانٹ پر حملہ کیا، جس کے بعد بعض علاقوں میں بجلی کی فراہمی متاثر ہوئی۔ اس کے جواب میں ایرانی افواج نے جنوبی اسرائیل کے ایک صنعتی علاقے کو نشانہ بنایا، جہاں آگ لگنے اور ممکنہ کیمیائی اخراج کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
دوسری جانب اسرائیل نے یمن سے داغے گئے دو ڈرونز کو فضا میں تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے، جبکہ اقوام متحدہ نے جنوبی لبنان میں ایک امن اہلکار کی ہلاکت کی تصدیق بھی کی ہے۔
اسی دوران اسلام آباد میں پاکستان، ترکیہ، مصر اور سعودی عرب کے وزرائے خارجہ کا اہم اجلاس ہوا، جس میں خطے میں کشیدگی کم کرنے اور سفارتی حل تلاش کرنے پر زور دیا گیا۔
ماہرین کے مطابق اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی امن، توانائی کی فراہمی اور معیشت کو بھی سنگین خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔





