حوثیوں کا اسرائیل پر دوسرا حملہ، مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی مزید بڑھ گئی

مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے دوران ایران کے حمایت یافتہ حوثی گروپ نے یمن سے اسرائیل پر ایک اور حملہ کر دیا، جو جنگ کے آغاز کے بعد دوسرا بڑا حملہ قرار دیا جا رہا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ یمن سے داغے گئے دو ڈرونز کو فضا میں ہی تباہ کر دیا گیا، تاہم اس حوالے سے مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔

یاد رہے کہ حوثی ملیشیا نے گزشتہ دنوں بھی اسرائیل پر میزائل حملے کیے تھے، جس کے بعد یہ تنازع مزید شدت اختیار کر گیا ہے اور خطے میں جنگ کا دائرہ وسیع ہونے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔

یہ تازہ حملہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ امریکا اور ایران کے درمیان براہ راست اور بالواسطہ رابطے جاری ہیں، اور ایران کی نئی قیادت نسبتاً زیادہ سمجھداری کا مظاہرہ کر رہی ہے۔

دوسری جانب امریکا کی جانب سے خطے میں مزید افواج کی تعیناتی بھی کی گئی ہے، جس سے صورتحال مزید پیچیدہ ہو گئی ہے۔ ادھر پاکستان، جو ایران اور امریکا کے درمیان ثالثی کردار ادا کر رہا ہے، نے عندیہ دیا ہے کہ وہ جلد ممکنہ مذاکرات کی میزبانی کر سکتا ہے تاکہ ایک ماہ سے جاری اس جنگ کا پرامن حل تلاش کیا جا سکے۔

ماہرین کے مطابق حوثیوں کی جنگ میں شمولیت سے نہ صرف تنازع مزید پھیل سکتا ہے بلکہ اس کے اثرات پورے مشرقِ وسطیٰ اور عالمی امن پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں