امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو 48 گھنٹوں کے اندر آبنائے ہرمز کھولنے کا الٹی میٹم دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ بصورت دیگر ایران کی اہم تنصیبات کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس (ٹوئٹر) پر جاری بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکا ایران میں اپنی فوجی کارروائیوں کے خاتمے کے لیے ایک نئی اور "زیادہ معقول” قیادت کے ساتھ سنجیدہ مذاکرات کر رہا ہے، جس میں نمایاں پیش رفت ہو چکی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر جلد معاہدہ طے نہ پایا اور آبنائے ہرمز کو فوری طور پر عالمی تجارت کے لیے نہ کھولا گیا تو امریکا ایران کے بجلی گھروں، تیل کے کنوؤں، خارگ جزیرے اور ڈی سیلینیشن پلانٹس کو مکمل طور پر تباہ کر سکتا ہے۔
ٹرمپ کے مطابق یہ ممکنہ کارروائی ان امریکی فوجیوں اور دیگر افراد کے ردعمل میں ہوگی جنہیں انہوں نے ایران کے ماضی کے اقدامات سے جوڑا۔
عرب میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی صدر نے کسی مخصوص تنصیب کا نام نہیں لیا، تاہم خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ بڑے توانائی مراکز ممکنہ ہدف بن سکتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق اس بیان کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی مزید بڑھنے کا امکان ہے، جبکہ آبنائے ہرمز کی بندش پہلے ہی عالمی تیل کی ترسیل اور معیشت پر گہرے اثرات مرتب کر رہی ہے۔





