پاکستان کی جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے حالیہ سیاسی اجتماع میں ایک متنازعہ بیان دیتے ہوئے کہا کہ وہ "قانون کی خلاف ورزی کریں گے اور 10 سال کے نوجوانوں کی شادیاں کروائیں گے۔”
اس دوران مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ نوجوانوں کی شادی کو روکنے والی قوانین کو نظرانداز کیا جائے گا تاکہ وہ اپنی پسند کے مطابق شادی کر سکیں۔ ان کے اس بیان نے سوشل میڈیا اور سیاسی حلقوں میں شدید ردعمل پیدا کر دیا ہے، اور ماہرین نے اس پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
سماجی اور سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ ایسے بیانات نوجوانوں کے حقوق، انسانی ہمدردی اور ملکی قوانین کے تناظر میں تشویش کا باعث ہیں، اور حکومت کو اس سلسلے میں فوری اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔
واضح رہے کہ پاکستان میں کم عمر لڑکوں اور لڑکیوں کی شادی پر قانونی حد مقرر ہے، اور کم عمر بچوں کی شادی کرنے پر سخت سزا اور قانونی کارروائی کا نفاذ موجود ہے۔ مولانا فضل الرحمان کے حالیہ بیان نے اس قانون کے اثر و رسوخ اور اس کے مستقبل پر سوال اٹھا دیا ہے۔
سوشل میڈیا صارفین اور عوامی حلقوں نے اس بیان کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے اور حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ کم عمر بچوں کی شادی روکنے والے قوانین پر مکمل عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔





